← واپس مضامین

شب برات اور شب معراج — فضیلت، عبادت اور غلط فہمیاں

سال میں دو راتیں ایسی ہیں جن کا ذکر ہر گھر میں ہوتا ہے — شب معراج (27 رجب) اور شب برات (15 شعبان)۔ دونوں کی اپنی فضیلت ہے، لیکن دونوں کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ اس مضمون میں دونوں راتوں کی حقیقت، عبادت کا طریقہ اور احتیاط والی باتیں پڑھیں۔

1۔ شب معراج — کیا ہوا تھا؟

شب معراج وہ رات ہے جس میں نبی ﷺ کو مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک سیر کرائی گئی، پھر آسمانوں پر بلایا گیا۔ اسی سفر میں امت کو 5 وقت کی نماز کا تحفہ ملا۔ 2027 میں شب معراج 5 سے 6 جنوری کو متوقع ہے۔ اس رات کو لوگ نفل عبادت، درود اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

2۔ شب برات — کیا ہے؟

شب برات شعبان کی 15ویں شب ہے۔ اس رات کی فضیلت میں یہ بات مشہور ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور رزق اور عمر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ 2027 میں شب برات 23 سے 24 جنوری کو متوقع ہے۔ اس رات میں نفل نماز، قرآن کی تلاوت، دعا اور استغفار کرنا بہتر ہے۔ اگلے دن (15 شعبان) کا روزہ رکھنا بھی مستحب مانا جاتا ہے۔

3۔ ان راتوں میں کیا کریں؟

بہترین عمل یہ ہیں: نفل نماز پڑھیں، قرآن پڑھیں، درود شریف پڑھیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، والدین اور مرحومین کے لیے دعا کریں، اور قضا نمازوں کا حساب کریں۔ عبادت خاموشی اور توجہ سے کریں — دکھاوے سے بچیں۔

4۔ غلط فہمیوں سے بچیں

کچھ باتیں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں جن کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں — مثال کے طور پر کسی خاص طریقے کی نماز کو فرض سمجھنا، یا یہ کہنا کہ فلاں کام کیے بغیر مغفرت نہیں ہوگی۔ اصول یہ ہے: جو عمل قرآن و سنت سے ثابت ہو اسی پر عمل کریں، اور نئی رسموں سے بچیں۔ اگر کسی عمل میں شک ہو تو اپنے علاقے کے عالم سے پوچھ لیں — یہی سب سے محفوظ طریقہ ہے۔

5۔ ان راتوں کی تاریخیں 2027 میں

شب معراج: 5 سے 6 جنوری 2027 • شب برات: 23 سے 24 جنوری 2027۔ یہ تاریخیں متوقع ہیں — فائنل تاریخ چاند کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔ تمام 2027 کے ایونٹس اسلامی ایونٹس صفحے پر دیکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوال

شب برات کو کیا کرنا چاہیے؟

نفل عبادت، قرآن، دعا اور استغفار۔ اگلے دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔

کیا شب معراج کی کوئی خاص نماز ہے؟

کوئی خاص فرض نماز نہیں — نفل عبادت، درود اور قرآن پڑھیں۔ کسی خاص طریقے کو فرض سمجھنا درست نہیں۔

قبرستان جانا ضروری ہے؟

قبرستان جا کر مرحومین کے لیے دعا کرنا اچھا عمل ہے، لیکن یہ فرض یا واجب نہیں — گھر سے بھی دعا کی جا سکتی ہے۔

مزید دیکھیں

⭐ اس مضمون کو ریٹ کریں: